بنگلورو۔18؍نومبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مرکزی حکومت کی طرف سے ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو ایک بار پھر عاجلانہ اور دور اندیشی سے عاری قرار دیتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کو اگر یہ فیصلہ نافذ کرنا تھا تو اسے پہلے ہی سے تیاری کرلینی چاہئے تھی، تاکہ نئے نوٹوں کے اجراء سے عام آدمی کو کسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مرکزی حکومت راتوں رات کرنسی نوٹوں پر پابندی لگانے کے فیصلے سے پہلے اگر احتیاط برت لیتی تو شاید آج عوام کو جس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہ نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے آج ایک اخباری کانفرنس میں کہاکہ مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی اور ریزرو بینک کے گورنر ارجیت پٹیل کو انہوں نے دو دو خطوط لکھے ہیں ، لیکن ان میں سے ایک پر بھی کسی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ملک میں کالے دھن پر روک لگانے مرکزی حکومت کے فیصلے کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ اس فیصلے کو روبہ عمل لانے سے قبل اگر منظم طریقے سے تیاریاں ہوتیں تو شاید عوام کا ہر طبقہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا۔مرکزی حکومت کے اس دعویٰ کو کہ بہت جلد حالات سدھر جائیں گے کھوکھلا قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ریزرو بینک میں جب وافر مقدار میں نئے طبع شدہ نوٹوں کا ذخیرہ نہیں ہے تو ایسے میں انہیں نہیں لگتا کہ جلد ہی صورتحال سدھر جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں کہیں بھی پرانے نوٹ نہیں لئے جارہے ہیں۔ مرکزی حکومت اگر پہلے ہی تیاری کرلیتی تو شاید عوام کو رقم کیلئے اس قدر جدوجہد میں مصروف نہ دیکھا جاتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مرکزی حکومت فوری طور پر مداخلت کرکے نجی اسپتالوں کو یہ سخت تاکید کرے کہ وہ علاج کیلئے پرانے نوٹ تسلیم کریں ۔ ضلع اور دیگر کوآپر یٹیو سوسائٹیوں کو کسانوں کے قرضوں کی وصولی کیلئے پرانے نوٹوں کو تسلیم کرنے کا اختیار دیا جائے۔ ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ پر ٹیپو جینتی تقریبات کے دوران فحش مناظر دیکھنے کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ سی آئی ڈی کا شعبۂ سائبر کرائم اس معاملہ کی جانچ کررہا ہے ، رپورٹ ملنے کے بعد مناسب قدم اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنویر سیٹھ پر انگلی اٹھانے کا بی جے پی کو کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ اس معاملے پر بلگاوی لیجسلیچر اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کرنے بی جے پی کے اعلان پر سدرامیا نے کہاکہ لیجسلیچر اجلاس میں اٹھانے کیلئے بہت سارے معاملات ہیں ، ریاست میں خشک سالی ، پانی کی قلت ، اپر کرشنا پراجکٹ کی تکمیل ، مہادائی سے پانی کی فراہمی اور دیگر امور پر سیر حاصل بحث شمالی کرناٹک میں ہونی چاہئے ۔